مظفرآبادسپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے آزادکشمیر میں آٹا کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اپوزیشن اراکین اسمبلی کے توجہ دلاﺅ نوٹس کے بعد معاملہ کو ایوان کی سٹینڈنگ کمیٹی میں زیر غورلاکر رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ جمعرات کے روز اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے رکن اسمبلی صغیر خان چغتائی نے آزادکشمیر میں آٹا کی قیمتوں میں اضافہ اور عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ایوان میں توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کیا جس پر وزیر قانون و پارلیمانی امورسردار فاروق احمد طاہر نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ خوراک وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ حکومت پاکستان سے گندم کا کوٹہ منظور ہونے کے بعد میسر ز پاسکو سے حاصل کرتا ہے اور اسے پسوائی کروانے کے بعد عوام کو سبسڈی برداشت کرتے ہوئے ارزاں اور یکسا ں نرخوں پر پورے آزادکشمیر میں آٹا مہیا کیا جاتا ہے ۔ روں فصلی سال کے ابتداء سے ہی پورے پاکستان میں گندم کے بحران کے باعث پرائیویٹ آٹا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ۔ جس کے نتیجہ میں پنجاب کی مارکیٹ سے اندرون آزاد کشمیر آنے والے آٹا کی قیمتوں میں بھی بے تحاثاہ اضافہ ہوگیا۔ پرائیویٹ مارکیٹ میں آٹا کے انراض بڑھ جانے سے آزاد کشمیر کی عوام کا کلیتاًانحصار سرکاری آٹا پر ہوگیا ۔ جس کے باعث سرکاری آٹا کی کھپت گزشتہ سالوں کی نسبت دوگنا سے بھی زائد ہوگئی ۔ رواں مالی سال میں محکمہ خوراک کو سبسڈی کی مد میں مہیا ہونے والا بجٹ جو پورے سال کیلئے دیا گیا تھا وہ رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں میں ہی خرچ ہوگیا ۔ چونکہ سرکاری آٹا اور پرائیویٹ آٹا کے انراخ میں کم و بیش 1000روپے فی 40کلو گرام کا فرق تھا ۔ اس لیے حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے مخدوش مالی صورتحال اور سبسڈی پراٹھنے والے اخراجات کو کچھ حد تک کم کرنے کے لیے آٹا کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا نا گزیر ہوگیا تھا۔ اس اضافہ کے باوجو د بھی آزا دکشمیر کی عوام کو اب بھی سرکاری آٹا پرائیویٹ آٹا کے مقابلہ میں 400تا 600روپے فی 40کلو گرام سستا مل رہا ہے اگر قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو سبسڈی کی رقم ختم ہونے سے یکدم غلہ کی ترسیل بند ہونے کے خدشات تھے ۔ جس سے عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ۔ تاہم جونہی اوپن مارکیٹ میں آٹا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تو آزاد کشمیر میں بھی سرکاری آٹا کی قیمتوں میں کمی کر دی جائیگی ۔ رواں فصلی سال کیلئے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ حکومت کی جانب سے منظور شدہ ایلوکیشن بھی ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے محکمہ کی جانب سے اضافی ایلو کیشن کے حصول کے لیے کاوش کی جارہی ہے ۔