مظفرآباد آزادکشمیر کے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات چوہدری محمد رشید، وزیر تعلیم سکولز دیوان علی خان چغتائی، وزیر تعمیرات عامہ اظہر صادق اور پارلیمانی سیکرٹری پروفیسر تقدیس گیلانی نے کہاہے کہ آج آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے لیے اپوزیشن نے ریکوزیشن جمع کروائی تھی اور کورم پورا کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری تھی لیکن اپوزیشن کورم پورا نہ کر سکی۔ حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ 07 دسمبر کو اسمبلی اجلاس بلایا جائے گا لیکن اپوزیشن نے جلد بازی سے کام لیا اور بعدازاں واویلا شروع کر دیا کہ حکومت اسمبلی سے بھا گ رہی ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر، وزراء اور تمام حکومت ممبران اسمبلی آخری وقت تک اسمبلی میں موجود رہے لیکن اپوزیشن کورم پورا نہ کر سکی جس کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ حکومت نے 10تاریخ کو اسمبلی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اپوزیشن کے بزنس کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گااور اپوزیشن کی مثبت تجاویز کو لے کر چلیں گے۔ ہماری حکومت نے اب تک کابینہ ترقیاتی کمیٹی نے 6 بلین روپے جبکہ ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 08 بلین روپے کے منصوبہ جات منظور کر لیے ہیں جن پر اب محکمہ جات عملدرآمد کے لیے پراسس کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز یہاں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزراء حکومت نے کہا کہ آج کے اجلاس کے لیے اپوزیشن کا ایجنڈا بھی غیر اہم نوعیت کا تھا جس میں کوئی خاص عوامی مسائل شامل نہ تھے۔اپوزیشن کا یہ ایجنڈا محض وقت کاضائع کرنا تھا اسی وجہ سے ان سے کورم پورا نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آزاکشمیر کی تعمیر و ترقی اور ریاست کے مفاد کی قانون سازی کے لیے جامع پلاننگ کر لی ہے۔ 10 دسمبر کو اسمبلی اجلاس میں قانون ساز ی بھی ہو گی اور حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے بزنس کو بھی ایجنڈے میں شامل کریں گے۔ اپوزیشن ممبران بھی منتخب عوامی نمائندے ہیں ہم ان کی مثبت تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ریاست اور عوام کی بہتری کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس وقت تک 12 ارب کے منصوبہ جات متعلقہ فورمزسے منظور کروا لیے ہیں۔گذشتہ حکومت نے ترقیاتی کاموں پر حکم امتناعی حاصل کیے رکھا جس کی وجہ سے ریاست کی تعمیر و ترقی کا عمل متاثر ہوا۔ عوام کی فلاح کے لیے رکھے گئے پچھلی حکومت کے منصوبہ جات کو بھی مکمل کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزراء حکومت نے کہا کہ ایڈھاک ملازمین کی مستقلی کے لیے پچھلی حکومت نے سب کمیٹی بنائی جس کی سفارشات کو بلڈوز کرتے ہوئے انہوں نے ایکٹ پاس کیا اوریہ ایکٹ پاس کرنے کے بعد پچھلی تاریخوں میں ملازمین بھرتی کیے گئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزراء کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود نے مودی کی جنرل اسمبلی میں آمد پر بھر پور احتجاج کیا اور دریں اثناء امریکہ اور یورپ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی دنیا کو آگاہ کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزراء نے کہا کہ گذشتہ حکومت کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان میں ہونے والی بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے لائیں گے۔ 500 ارب کے وفاقی حکومت کے فنڈز کو ریاست کی تعمیر وترقی پر خرچ کریں گے اور اس فنڈ سے آزادکشمیر میں میگا ترقیاتی منصوبہ جات شروع کریں گے تاکہ یہاں خوشحالی آئے اور عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔