چیئرمین آزادجموں وکشمیر احتساب بیورو سردار نعیم احمد شیراز نے کہا ہے کہ آزادجموں وکشمیر احتساب بیورو نے گزشتہ سال796کیسز کے ڈسپوزل کیے، احتساب بیورو میں سابقہ 307کیسز زیر کار تھے جبکہ گزشتہ سال600نئی شکایات موصول ہوئیں اور اس وقت احتساب بیورو میں111شکایات اور 312 تفاتیش زیر کار ہیں۔دوران شکایات ابتدائی مرحلے اور دوران تفتیش احتساب بیورو نے گزشتہ سال 1کروڑ67لاکھ 37ہزار472روپے کی ریکوری کی۔ جبکہ سرکاری رقبہ پر ناجائز قابضین کو 1819کنال رقبہ سے بے دخل کیا گیا، ملزمان کے خلاف خرد برد اور کر پشن کی جانے والی رقوم کی ریکوری کے لیے عدالتوں میں ریفرنس اوراحتساب بیورو کی مداخلت سے سال 2021کی مجموعی کارگزاری/ ریکوری 79,80,86,538/-(نواسی کروڑ اسی لاکھ چھیاسی ہزار پانچ صد اڑتیس روپے) ہے۔ گزشتہ سال پچیس ملزمان گرفتار ہوئے اور کل 41ملزمان کے خلاف ریفرنس 14 ریفرنسز عدالت میں دائر کیے گئے جن میں مختلف منصوبہ جات میں مجموعی طور پر 514222538روپے کی کرپشن کی۔ امسال 4 ریفرنسز دائر عدالت ہوچکے ہیں احتساب بیورو کے قیام کا بنیادی مقصد پبلک آفس ہولڈرز اور مختلف اداروں کی جانب سے ہونے والی کرپشن اور بدعنوانی کے ذریعہ حاصل کی جانے والی دولت اور اثاثہ جات کو ریکور کرنا اور ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر کے ان کو سزا دلانا ہے تاکہ کرپشن کا سدباب کیا جا کر ریاست کے اثاثہ جات کا تحفظ کیا جا سکے۔ میں نے 18اگست 2020کو چیئرمین احتساب بیورو کا قلمدان سنبھالا اور انتہائی مخدوش صورتحال میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بذیل چیدہ چیدہ اقدامات عمل میں لائے گئے جن سے موجودہ ادارے کی ساکھ بحال ہو کر اس کے فعال ہونے میں کچھ بہتری آئی ہے۔ احتساب بیورو میں دن کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوتا ہے اور تسلسل کے ساتھ قرآنی آیات کی تلاوت کے ساتھ،ترجمہ اور مختصر مفہوم ہر روز باقاعدگی سے بیان کیا جاتا ہے۔احتساب بیورو کی دفتری مکانیت قبل ازیں اولڈ کچہری پلازہ MDAکی بلڈنگ میں موجود تھی اور گزشتہ 21سال میں بیوروکی اپنی عمارت نہ تھی۔ گزشتہ ایک دوس سال سے تھوری لوئر چھتر میں موجود زمین پر احتساب بیورو کمپلیکس زیر تعمیر تھا جو سست روی کا شکار تھا جس کو ہنگامی بنیاد پر مکمل کرواتے ہوئے تمام دفاتر کو ایک ہی جگہ پر قائم کر دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادجموں وکشمیر احتساب بیورو کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالہ سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ چیئرمین احتساب بیورو نے کہاکہ احتساب بیورو میں تعینات جملہ ملازمین جن کو ادارہ میں قائم ہونے کے بعد وقتا فوقتا بھرتی کیا گیا تھا۔ عدالت ہا نے ان کو خلاف قواعد قرار دے کر عارضی قرار دیا گیا اور نئے قواعد مرتب کر کے جریدہ آسامیوں کو تحت قواعد PSC میں ارسال کیا جا چکا ہے اور غیر جریدہ ملازمین کی آسامیوں پر مطابق قواعد اشتہار دیا گیا ہے لیکن معاملات عدالتوں میں زیر کار ہونے کی وجہ سے تاحال پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ عدالتی فیصلہ جات کے بعد ہی ان کے معاملات کو حتمی طور پر یکسو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میری بحیثیت چیئرمین تعیناتی سے قبل گزشتہ ڈیڑھ سال سے کوئی چیئرمین تعینات نہیں رہا جس کے باعث کسی بھی کمپلینیٹ پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکی اور جملہ مقدمات جو انکوائری یا انوسٹی گیشن میں زیر کار تھے وہ ایکٹ میں ترامیم کے باعث زائد المعیاد ہو چکے تھے اور احتساب بیورو عملا غیر فعال تھا۔ ایسی صورتحال میں ایسے پوٹینشل کیسز میں جس میں خرد برد کے واضع ثبوت موجود تھے کی یک بارگی توسیع کے لیے معاملہ حکومت کے نوٹس میں لایا گیا۔ جس پر حکومتی آرڈیننس جاری ہوا اور 132پینڈنگ تفاتیش میں کیس ٹو کیس جائزہ لیا جا کر پوٹینشل کیسز میں مزید ایک سال توسیع کی گئی اور ان مقدمات کو دوبارہ رواں کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ وائٹ کالر کرائم میں انوسٹی گیشن کو کسی محدود عرصہ کے لیے پابند کرنا بالواسطہ ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے جبکہ انٹی کرپشن، پاکستان نیب اور دیگر۔۔ قسم کے ادارہ جات میں انوسٹی گیشن پر اس قسم کی کوئی Time Bar قدغن موجود نہیں ہے جس کو بحال کیا جانا تقاضا قانون ہے۔علاوہ ازیں چیئرمین کے پاس از خود کارروائی کا اختیار ختم کر دیا گیا جس باعث دیگر زرائع اور سوشل میڈیا سے آنے والی خبروں پر کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بیورو کے دائر ہ کار، اہمیت اور اس کے کام کے حوالہ سے متعلق عوام الناس کی آگاہی کے لیے آزادکشمیر کے جملہ اضلاع کے دورہ جات کیے گئے جہاں شاکیان کی جانب سے موصولہ شکایات پر متعلقہ محکمہ جات کے سربراہان سے مو قع پر میٹنگز ہوئیں اور موقع پر ہونے والی شکایات کی داد رسی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ احتساب بیورو کی مداخلت سے اربوں روپے لاگت کے حامل پراجیکٹس کی مانیٹرنگ پر تکمیل ہوئی ہے جو اب فنکشنل ہیں۔۔