مظفرآباد( وائس آف کشمیر نیوز)آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات میں التواء کی تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا . حکومت کو بلدیاتی انتخاب کے لئے 30 نومبر تک کی مہلت دے دی ہے.چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان ،جسٹس خواجہ نسیم احمد اور جسٹس رضا علی خان پرمشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےحکومتی درخواست پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے مقرر کردہ تاریخ میں مزید 6 ہفتے کی توسیع کر دی ہے  ، عدالت عظمیٰ نے 30 نومبر 2022ءسے قبل ڈویژن وائز بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کامختصر حکم نامہ جاری کر دیاہے  ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ وہ عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے ، سپریم کورٹ نے حکومت کی یقین دہانی اور تحریک پر فیصلہ دے رکھا ہے یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں یونین کونسل اور وارڈ یا ٹاؤن کمیٹی کے لئے آبادی کی حد مقرر کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کا ہے انہوں نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ ان کا فیلیئر کورٹ  یا الیکشن کمیشن پر نہ ڈالا جائے، جسٹس خواجہ نسیم احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے دوران سیکورٹی کے لیے نفری کم ہے تو تینوں ڈویژنز میں مرحلہ وار الیکشن کرائے جائیں تاکہ اپنی سیکورٹی فورسز ہی کافی ہوں۔ جسٹس رضا علی خان نے کہا کہ ایک طرف حکومت کا موقف ہے کہ مالی وسائل نہیں دوسری طرف حکومت مہنگی گاڑیوں کی خریداری کر رہی ہے۔