جنرل سر فرینک والٹر میسروی

1

اگست 1947- فروری 1948

Image

پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف اپنے عہدے سے ایک سال سے بھی کم مدت میں ریٹائر ہوئے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے احکامات نہ ماننا ہی ان کی ریٹائرمنٹ کی وجہ تھی۔

2

جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی

Image

فروری 1948- جنوری 1951جنرل فرینک کی طرح جنرل ڈگلس نے بھی گورنر جنرل کے کشمیر کے محاذ پر فوج بھیجنے کے احکامات تسلیم نہیں کیے اور اپنی مدت سے قبل ہی ریٹائر ہو گئے۔ وہ پاکستان کے آخری برطانوی آرمی چیف تھے۔

3

فیلڈ مارشل ایوب خان

Image

جنوری 1951- اکتوبر 1958ایوب خان پاکستان کے پہلے مقامی فور اسٹار جنرل اور واحد (خود نامزد) فیلڈ مارشل تھے۔ وہ 1958 میں صدر پاکستان بنے اور تقریباً 6 سال تک آرمی چیف کے عہدے پر رہے۔

4

جنرل محمد موسیٰ

Image

اکتوبر 1958- جون 1966کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کے انتہائی وفادار جنرل محمد موسیٰ ان کے دور حکومت میں دو مرتبہ آرمی چیف رہے۔ ایوب خان نے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد 1967 سے 1969 تک مشرقی پاکستان کا گورنر بنایا تھا۔

جنرل یحیٰی خان

5

Image

جون 1966 – دسمبر 1971

ایوب خان نے جنرل یحیٰی خان کو 1966 میں آرمی چیف بنایا اور 1969 میں انہیں صدارت لینے کی پیش کش کی۔ جنرل یحیٰ نے فوجی حکومت قائم کی۔ انہیں 1971 میں بھٹو کو حکومت سونپنے کے بعد اپنے گھر میں قید کیا گیا۔

6

جنرل گل حسن خان

Image

دسمبر 1971 – مارچ 1972اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل گل حسن خان کو آرمی چیف بنایا اور وہ صرف دو ماہ تک آرمی چیف رہے۔ انہیں حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

7

جنرل ٹکا خان

Image

مارچ 1972 – مارچ 1976پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف بنایا اور وہ اپنی مدت ختم ہونے کے بعد بھٹو کی حکومت میں ہی سیکیورٹی اور دفاع کے مشیر مقرر کیے گئے۔

8

جنرل ضیا الحق

Image

مارچ 1976 – اگست 1988جنرل ضیا الحق چار ادوار تک ملک کے آرمی چیف رہے۔ 1977 میں مارشل لاء لگانے کے بعد وہ 1978 سے 1988 میں اپنی وفات تک ملک کے صدر بھی رہے۔

جنرل مرزا اسلم بیگ

9

Image

اگست 1988- اگست 1991جنرل اسلم بیگ ضیاالحق کے بعد ملک کے آرمی چیف بنے اور بے نظیر کی حکومت کا قیام بھی انہیں کے دور میں ہوا۔ اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے انہیں عہدے میں توسیع دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد وہ ریٹائر ہو گئے۔

جنرل آصف نواز

10

Image

اگست 1991- جنوری 1993

صدر غلام اسحاق خان نے جنرل آصف نواز کو آرمی چیف مقرر کیا لیکن وہ دل کے دورے کے سبب موت کی وجہ سے انتقال کر گئے اور اپنی مدت آرمی چیف مکمل نہ کر سکے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ

11

جنوری 1993- جنوری 1996

Image

بطور آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو استعفوں اور 1993 کے انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور کیا۔ ان انتخابات میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

جنرل جہانگیر کرامت

12

Image

جنوری 1996- اکتوبر 1998جنرل جہانگیر کرامت کو بے نظیر بھٹو نے آرمی چیف مقرر کیا۔ بعد میں وزیراعظم نواز شریف نے انہیں سویلین حکومت کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا۔ وہ بعدازاں 2004 سے 2006 تک اس کے وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکا میں پاکستانی سفیر بھی تعینات رہے۔

جنرل پرویز مشرف

13

Image

اکتوبر 1998- نومبر 2007

جنرل پرویز مشرف کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنی حکومت میں ملک کا نیا آرمی چیف مقرر کیا۔ وہ 1999 میں مارشل لاء کے ذریعے حکومت میں آئے۔ وہ 1999 سے 2002 تک پاکستان کے وزیردفاع اور چیف ایگزیکٹیو رہے۔

14

جنرل اشفاق پرویز کیانی

Image

نومبر 2007- نومبر 2013جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نومبر 2007 میں جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف مقرر کیا اور وہ آصف زرداری کی حکومت کی منظوری کے بعد دو ادوار تک آرمی چیف رہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ان کا جانشیں مقرر کیا۔

جنرل راحیل شریف

15

Image

نومبر 2013- نومبر 2016

جنرل راحیل شریف پاک فوج کے چوتھے سپہ سالار تھے جنہیں وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا۔اپنی تعیناتی کے وقت انہیں عہدے کے لیے مضبوط امیدوار تصور نہیں کیا جا رہا تھا تاہم آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ

16

Image

نومبر 2016- نومبر 2022جنرل قمر جاوید باجوہ کو 26 نومبر 2016 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ بعد ازاں اگست 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ان کی مدت میں توسیع کی اور معاملے سپریم کورٹ میں گیا جہاں پارلیمنٹ سے قانون سازی کا کہا گیا اور پارلیمان سے باقاعدہ قانون بنایا گیا۔