اسلام آباد ( ادریس احمد اعوان سے)تحریک انصاف کے دور میں مسئلہ کشمیر پر بحث سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر و گلگت بلتستان افیئرز کا اختیار ہی نہیں دیا گیا ، رولز آف بزنس میں سختی سے منع کر دیا گیا چئیرمین قائمہ کمیٹی پروفیسر ساجد میر کا کمیٹی اجلاس میں انکشاف جبکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر یو این میں پیش ہونے والی رپورٹ کمیٹی میں طلب کر لی گئیں ،تفصیلات کے مطابق پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان افئیرز وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں جمع ہونے والی رپورٹس کی کاپی نہ ملنے کے معاملے پر احتجاج کیا ،شہادت اعوان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے یہ کمیٹی ایک رپورٹ تک نہ منگوا سکی تو اس کے اجلاس کا فائدہ کیا ؟مسئلہ کشمیر پر اس وقت ہر فورم پر موثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے جس پر چئیرمین کمیٹی ساجد میر نے بتایا جب میں دو ہزار اٹھارہ میں چئیرمین کمیٹی بنا تو مجھے رولز آف بزنس دیا گیا جس میں کہا گیا یہ کمیٹی صرف گورننس کے معاملہ پر بات کرے گی ،یہ کمیٹی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کر سکتی ,جس پر رکن کمیٹی وزیر مملکت برائے قانون نے شدید احتجاج کیا مسئلہ کشمیر اس کمیٹی کا بنیادی ایجنڈا ہونا چاہئیے سڑکوں پر بات کرنی ہے تو اس کمیٹی اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں اگر کشمیر پر بات نہیں ہوگی تو اس کمیٹی مین نہیں بیٹھوں گا ،شہادت اعوان نے کہا کہیں کوئی سازش کے تحت تو نہیں کروا رہا اس وقت مسئلہ کشمیر پر جاندار انداز میں آزاد اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر چئیرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے روزنامہ اوصاف کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں کمیٹی چئیرمین بنا تو اس وقت سیکرٹری نے رولز آف بزنس بتاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کمیٹی میں بات نہیں ہو سکتی ، قائمہ کمیٹی نے پاکستان میں کشمیر پراپرٹی کی تفصیلات اور عدالتی کیسز کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔
سینیٹ کمیٹی