اسلام آباد ( وائس آف کشمیر نیوز )آزاد کشمیر میں انسانوں اور مویشیوں پر جنگلی خون خوار چیتوں کے حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ،نیشنل پارکس میں پالے گئےخون خوارگوشت خور جانوروں نے جنگلات میں جنگی حیات کا خاتمہ کرنے کے بعد اب انسانی آبادیوں اور بستیوں کا رخ کرلیا،تحفظ جنگلی حیات کے تحت محکمہ وائلڈ لائف کو چیتوں کیلئے ملنے والا گوشت لائیوسٹا ک اگر ان تک پہنچتا تو نہ جنگلی حیات تباہ ہوتی اور نہ ہی انسان اور ان کے مویشی غیر محفوظ ہوتے ، اوصاف کی تحقیاتی رپورٹ کے مطابق سالانہ کروڑوں روپے تنخواہیں لینے والے محکمہ جنگلی حیات حکومتی خزانے پر بوجھ بن گیا ،وائلڈلائف ڈائریکٹوریٹ مظفرآباد کی تنخواہیں سالانہ 8 کروڑ22 لاکھ سے زائد جبکہ 14 افسران اور 81 واچرز کی عدم دلچسپی اور لا پرواہی عوام کے لئے وبال جان بن گئی جبکہ نایاب چیتوں کا شہری آبادیوں کی طرف رخ کرنے سے خوف و ہراس کے ساتھ لاکھوں روپے کا نقصان بھی ہوا ہے ، شیروں چیتوں اور اور دیگر جنگلی جانوروں کے لئے محکمہ کوملنے والا لاکھوں روپےکا گوشت(لائیوسٹاک بھیڑ،بکریاں ، دنبے ،خرگوش) وائلد لائف کے ملازمین کا اپنوں میں تقسیم کرنےکا انکشاف ،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر محکمہ جنگلی حیات نایاب قسم کی خطرناک اور جان لیوا جنگلی جانوروں سمیت خوبصورت اور قیمتی پرندوں کے تحفظ اور ان کی تمام تر ضروریات جنگل کے اندر پوری کرنے کے لئے بنایا گیا ہے،آزاد کشمیر کا محکمہ وائلد لائف جنگلی جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے،محکمے کے اندر بیٹھے افسران کی لاپرواہی اوراپنے کام پر عدم توجہ نے ادارے کا بیڑا غرق کر دیا ہے جنگلی جانوروں کی خوراک اور دیگر ضروریات اور ان کے تحفظ کے لئے ملنے والا فنڈ جانوروں پر لگانے کی بجائے دفاتر میں ہی بیٹھ کر آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے اور جنگل نایاب پرندوں سمیت جنگلی جانوروں کو شکار مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔زرائع نے بتایا ہے کہ شیروں چیتوں اور اور دیگر جنگلی جانوروں کے لئے محکمہ کوملنے والا لاکھوں روپےکا گوشت ملازمین آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اگر نابیاب نسل کے چیتوں اور دیگر جنگلی جانورں کو جبگل کے اندر ہی خوراک کی سہولت فراہمی کے لئے عملی اقدامات کئے جایئں تو وہ کبھی آبادیوں کی طرف رخ نہ کریں ، جنگلی چیتوں نےگزشتہ تین ماہ میں ضلع جہلم ، نیلم اور باغ کے جنگلات سے مختلف آبادیوں کا رخ کیا جس کیوجہ وے عوام علاقہ نے اپنے تحفظ کی خاطر بے دردی دے مار دیا گیا ہے۔محکمہ وائلڈلائف ڈائیریکٹریٹ مظفرآبادکے ملازمین کی تنخواہوں کا سالانہ بجٹ 8 کروڑ22 لاکھ سے زائد ہے ، روزنامہ اوصاف کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کے ڈائیریکٹریٹ مظفرآباد کے گریڈ 16 سے 19 کے ڈائیرکیٹر تک 14 افسران کی تنخواہوں کا سال 2022-23 بجٹ 3 کروڑ 15 لاکھ بنتا ہے ،جبکہ گریڈ 1 سے گریڈ14 کے 146 ملازمین کا کل سالانہ بجٹ 3 کروڑ 60 لاکھ 82ہزار روپے بنتا ہے ، جبکہ ڈائیکٹریٹ کے تحت 81 واچرز کام کر رہے ہیں جبکہ تنخواہوں سے ہٹ کر محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائیریٹریٹ میں پوسٹیج ٹیلی گراف اور ٹیلی فون اور ٹرنک کال سمیت یوٹیلیٹی بلاٹ ،ٹریول ٹرانسپورٹ سٹیشنری یونیفارمز اور دیگر اخراجات کا سالانہ بجٹ تخمینہ 51 لاکھ 48 ہزار روپے ہے ۔تنخواہوں کی مد میں ایک خظیر رقم اور سہولیات کے باجود آزاد کشمیر کے بڑے اضلاع سے ملحقہ جنگلات بالخصوص ضلع مظفر آباد ،حویلی ، باغ ، راولاکوٹ نیلم ، جہلم اور کوٹلی کے جنگلات میں گزشتہ کئی ماہ سے جنگلی چیتوں ، بندروں اور جنگلی مرغوں سمیت نایاب پرندوں کے حوالے محکمہ جنگلی حیات کارگردگی صفر ہے جبکہ چیتوں کا آبادیوں کی طرف رخ بھیڑ بکریاں اور دیگر جانوروں کا لاکھوں کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ وائلڈ لائف کی افسران اور وزچرز کی عدم توجہی کی وجہ سے انسانی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔
چیتے حملے