فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ملکی تاریخ میں بجلی کا ایک اورتاریخی بریک ڈاون، 17 گھنٹے بعد بھی ملک بھرمیں بجلی بحال نہ کی جاسکی۔

کراچی اور لاہور سمیت بعض شہروں میں بجلی کی بحالی کا آغاز تاہم مکمل بحالی آج دوپہر تک ہونے کا امکان۔

بجلی کی بندش سے ملک بھر میں صنعتوں کاکام ٹھپ ہو گیا، مختلف اسپتالوں میں آپریشن ملتوی، دھابیجی سے کراچی کو پانی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی بندش پر نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

تاحال ملک گیر بریک ڈاؤن کی وجہ سامنے نہیں آسکی تاہم وزیر توانائی خرم دستگیر نے دعویٰ کیا ہے کہ رات تک ملک بھرمیں بجلی بحال کر دی جائے گی۔

بجلی کے ملک گیر بریک ڈاون کے باعث کراچی کے نوے فیصد علاقے بجلی سے محروم ہیں، صبح سے رات تک بجلی نہ ہونے کے باعث گھریلو، صنعتی، تعلیمی اور عدالتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں، دفاتر میں کام اور اسپتالوں میں آپریشن نہ ہوسکے۔

دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر لائن پھٹنے سے شہر کو پانی کی فراہمی بھی بند ہوگئی جبکہ سیلولر کمپنیوں کے سگنلز نہ آنے کے باعث فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کی فراہمی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے سابق ایم ڈی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا ہے کہ ملکی سطح پر بریک ڈاؤن سے نمٹنے کیلئے عملے کی بڑے پیمانے پر جدید تربیت کی ضرورت ہے،

جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریک ڈاؤن کا امکان تو موجود رہنا ہے لیکن فالٹ کی منتقلی نہ روک پانا قابلِ تشویش ہے۔