فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: وزارت خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز قرض کے نویں پروگرام کیلیے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈز کے درمیان مذاکرات ختم ہوگئے، جس کے دوران اسٹاف کی سطح کا معاہدہ نہیں ہوسکا اور آئی ایم ایف نے اس کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے سربراہ کی وزیر اعظم شہباز شریف سے بذریعہ ویڈیو لنک ملاقات ہوئی جس میں معاملات طے پانے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا اور شہباز شریف نے معاملات کی منظوری دی۔

وزارت خزانہ کا اعلامیہ

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات ختم ہوگئے، جائزہ مشن کے ساتھ اسٹاف کی سطح کا معاہدہ نہیں ہوسکا، جو واشنگٹن کی منظوری کے بعد ہوگا۔ اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد صبح واپس روانہ ہوگا، آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف پی پاکستان کے حوالے کردیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کچھ معاملات تصفیہ طلب ہیں جن پر فیصلہ واشنگٹن کی منظوری سے ہوگا، پاکستان اور آئی ایم ایف کا ایکشن اور پیشگی اقدامات پر اتفاق ہوگیا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن نے اسٹاف لیول معاہدے کیلئے مزید وقت مانگا ہے، جس کی منظوری عالمی مالیاتی فنڈز کا بورڈ دے گا۔ سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ نے کہا کہ تصفیہ طلب نکات پر فیصلہ واشنگٹن میں ہوگا،آئی ایم ایف نے غیر ملکی فنانسنگ کے لیے سفیروں سے ملاقات کرکے تصدیق بھی کرلی ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے اسٹاف سطح کے معاہدے کو واشنگٹن کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے وقت مانگا ہے، آئی ایم ایف جائزہ مشن مذاکرات سے متعلق اعلامیہ جاری کرے گا جس کے بعد منظوری ہونے کا امکان ہے۔ واشنگٹن کے اعلامیے کے بعد اسحاق ڈار پریس کانفرنس میں مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کریں گے۔

ذرائع کے مطابق  پاکستان آئی ایم ایف سے جلد بورڈ میٹنگ بلانے کی درخواست کرے گا۔آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ نویں اقتصادی جائزہ کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف بورڈ قسط جاری کرنے منظوری دے گا، جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر قرض کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان پر واضح کیا اور تجویز دی ہے کہ پاور سیکٹر میں ریفامرز نہ کیں تو ملک ڈوب جائے گا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنا ہوگی، صرف آیئسکو،فیسکو اور لیسکو کی کارکردگی اچھی اور لائن لاسز کم ہیں۔

مذاکرات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وہ اچھی خبر دیں گے، آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات آن ٹریک ہیں، ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی آئی ایم ایف جائزہ مشن کی ٹیم کے سربراہ سے ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں فریقین نے ریونیو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ترمیمی فنانس بل کی اصولی منظوری بھی دی۔

علاوہ ازیں پاکستان نے آئی ایم ایف کو طے کردہ اہداف پورے کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے ترقیاتی بجٹ میں 350 ارب تک کمی پر اتفاق کیا جبکہ ٹیکس کی شرح اور مانیٹرنگ کا نیا سسٹم بنانے اور بینکوں سے روپے میں قرضہ لے کر واپس کرنے کا نیا طریقہ کار پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔