دارالحکومت مظفرآباد میں آٹے کا مصنوعی بحران تھم نہ سکا، شہری ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آٹے کا بحران رکنے کا نام نہیں لے رہا جبکہ 1ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود محکمہ خوراک کے اہلکار عوام کو آٹا فراہم کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دے رہے ہیں ،محکمہ خوراک کی جانب سے من پسند افراد کو آٹے سے نوازہ جانے لگا،کوئی پوچھنے والا نہیں ،وزیر خوراک نے مظفرآباد کے بجائے اسلام آباد میں ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں ،عوام آٹے کیلئے آٹا ڈپوئوں کا طواف کرنے پر مجبور ہے ،ایک طرف حکومت عوام کو آٹے پر سبسڈی دینے کی باتیں کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب محکمہ خوراک کے اہلکار خود آٹا سمگلنگ کروانے میں مصروف عمل ہیں ،شہریوں کو سستا آٹا حاصل کرنے کیلئے دن بھر لائنیوں میں کھڑے رہنے کے باوجود زلیل و خوار ہو کر خالی ہاتھ گھروں کی طرف لوٹنا پڑھتا ہے ،سرکاری آٹا نہ ملنے کی وجہ سے شہری پنجاب سے آیا ہوا آٹا مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہیں،شہریوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر سمیت دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور آٹا کی سمگلنگ روکنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔
آٹا بحران