آزادکشمیر کےمالی سال 2023-24 کا 2 کھرب 32ارب روپے کا بجٹ آج قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، ترقیاتی بجٹ 42 ارب جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے 190 ارب روپے مختص کئے جائیں گے ذرائع
کے مطابق مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 2 کھرب 32ارب روپے سے زائد ہوگا، مالی سال 2023-24 کا ترقیاتی بجٹ 42 ارب روپے مختص کرنے ،غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے 190 ارب روپے مختص کرنے اور،ترقیاتی بجٹ میں 30 ارب وفاقی حکومت جبکہ 12 ارب اپنے وسائل سے حاصل کئے جائیں گے، ذرائع کے مطابق گذشتہ مالی سال کی نسبت ترقیاتی بجٹ میں 47 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ،ترقیاتی بجٹ کا سب سے زیادہ ساڑھے 14 ارب رسل و رسائل پر خرچ کیا جائے گا تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 2 ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے صحت کا بجٹ ایک اعشاریہ آٹھ ارب سے بڑھا کر 3 ارب روپے مختص کرنے اورتمام ضلعی ہسپتالوں میں  سی ٹی سکین، ایم آر آئی مشینیں اور ایمبولینسز فراہم کرنے کیلئے فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں پاور سیکٹر کیلئے بجٹ دو ارب سے بڑھا کر 4 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے جنگلات کو آگ سے بچانے کیلئے 40 کروڑ روپے مختص کرنے ،محکمہ تعلقات عامہ کا بجٹ 14 کروڑ سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہےسیاحت میں 60 سے بڑھا کر 70 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے بجٹ 38 سے بڑھا کر 80 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے7 تحصیلوں کا لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے، بائیو میٹرک سسٹم، سٹیٹ سبجیکٹ کمپیوٹرائزڈ کرنے اور ای گورننس کیلئے بجٹ میں رقم مختص کی جا رہی ہےمیرپور میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک، فرانزک لیب کیلئے فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہےمحکمہ برقیات کیلئے 27 ہزار نئے کنیکشن کیلئے ترقیاتی بجٹ میں فنڈ مختص کرنے کی تجویز جس سے ایک لاکھ آبادی مستفید ہو گی ،لوکل گورنمنٹ کا بجٹ 2 ارب 80 کروڑ سے بڑھا کر 3 ارب 70 کروڑ کرنے کی تجویز ہے کلائمٹ چینج کا بجٹ 10 کروڑ سے بڑھا کر 15 کروڑ کرنے کی تجویز ہے، وومن ڈویلپمنٹ کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،آئندہ مالی سال میں 2 ارب روپے فارن فنڈنگ سے حاصل ہونے کا امکان ہے جس میں جاگراں 4 ہائیڈل منصوبے سمیت سکول سے باہر بچوں کیلئے فنڈز حاصل ہوں گے،ریاست جمون کشمیر کی آزاد حکومت میں تا حال وزارت خزانہ کا قلمدان کسی بھی وزیر کو سپرد نہیں کیا ، مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہوگا
فنڈز