الیکشن کمیشن کی جانب سے 21 ستمبر کو جاری کیے گئے چار سطروں پر مشتمل مختصر اعلامیے کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ ملک میں عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’  الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے کام کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی۔‘

پاکستان میں عام انتخابات سے جڑا ابہام   اس وقت کم ہوا جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ آئندہ سال جنوری کے مہینے کے آخری ہفتے میں الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا تاہم الیکشن کی تاریخ سے جڑے آئینی سوال اب تک باقی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2018 سے شروع ہوئی تھی اور اس کی پانچ سال کی مقررہ مدت 12 اگست 2023 کی رات 12 بجے مکمل ہونا تھی تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے مقررہ مدت پہلے نو اگست کو ہی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔

آئین کے تحت عام انتخابات اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن بعد ہونا تھے تاہم سابقہ حکومت کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد الیکشن کا انعقاد التوا کا شکار ہو گیا۔

آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو انتخابات 60 روز میں کرائے جائیں گے لیکن اس کے قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر 90 روز تک ہو جاتی ہے

قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت کا خاتمہ بھی ہو گیا ہے اور اب ایک نگران حکومت عام انتخابات تک ملک کا انتظام چلائے گی۔

عمران خان کی پہلی گرفتاری کے بعد آپ کو پشاور سے کراچی تک سڑکوں پر پُرتشدد مظاہرے دکھائی دیے۔ اس دوران عمارتوں کو نذرِ آتش کیا گیا جس کے بعد فوج طلب کرنی پڑی۔ تاہم سنیچر کی رات پاکستان میں کسی بھی دوسری رات کی طرح معمول کی رات تھی۔

عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور انھیں توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف فروخت سے ملنے والی آمدن الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر تین برس قید کی سزا ہو چکی ہے

روپے کی قدر میں کمی کو معیشت کے ایک اشاریے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں معیشت کے ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں روپے کی قدر میں بتدریج کمی کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے آخری چند ہفتوں میں آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ قدرے مستحکم رہا تاہم نگران حکومت کے آنے کے بعد سے ڈالر کے ریٹ میں اچانک کافی اضافہ ہوا ہے۔

عمران خان کی گرفتاری، خود عمران خان کی سیاست اور اُن کی پارٹی کے مستقبل پر کیا اثرات چھوڑے گی؟ اس گرفتاری کا پی ڈی ایم کی جماعتوں کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا پی ڈی ایم جماعتوں کو پی ٹی آئی کے ووٹرز اور حامیوں کی جانب سے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اور کیا اس گرفتاری سے اسٹیبلشمنٹ پر بھی اُنگلیاں اُٹھنے کا اندیشہ ہے؟

پاکستان اپنی گرتی ہوئی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مسلسل بیل آؤٹ پیکج کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن پی ڈی ایم حکومت کی بظاہر کئی ماہ سے جاری یہ کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔

ایسے میں یہ سوالات اب شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے؟ کیا پاکستان میں جمہوریت خطرے میں ہے؟ اور موجودہ حالات کی بنیاد پر ملک کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟