گوجرانوالہ: این اے 79 گوجرانوالہ میں تعینات پولنگ آفیسر طاہر ابرار کا الیکشن میں دھاندلی کا اعترافی بیان سوشل ویڈیو پر وائرل ہوگیا۔

وائرل ویڈیو میں طاہر ابرار کا کہنا تھا کہ جان میں نے اللہ کو دینی ہے جو کچھ میں نے کیا ہے اور جو کروایا گیا ہے اللہ ایسا موقع کبھی نہ لائے، مجھے الیکشن میں ڈیوٹی نہ کرنا منظور ہوگا لیکن ایسا کام دوبارہ کبھی نہیں کروں گا۔

پولنگ آفیسر نے بتایا کہ اس کے باوجود اللہ نے جس کے مقدر میں عزت لکھی تھی اس کو دے دی، میں سرکاری ملازم ہوں اور میری کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے، ہم پر کسی امیدوار یا ایڈمنسٹریشن کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا، آج کل جن کا زور چل رہا ہے انہی کا چلا اور انکی منشاء کے مطابق ہم ان کو نتائج دے کر آئے ہیں

گراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی والے معاملے پر کارروائی جاری ہے، ہمیں اداروں پر اعتماد کرنا چاہے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت نے اپنی ذمے داری پوری کی ہے۔ کمشنر راولپنڈی کے معاملے پر اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنی ہے۔ الیکشن کمیشن بھی اس معاملے پر کارروائی کر رہا ہے

این اے 46 سے انجم عقیل، این اے 47 سے طارق فضل اور این اے 48 سے راجہ خرم نواز کی کامیابی کے نوٹیفکیشنز معطل کیے گئے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لیگی امیدواروں طارق فضل چوہدری، انجم عقیل اور راجہ خرم نواز کی کامیابی کے نوٹیفکیشنز معطل کر دیے۔

ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے حلقوں کے انتخابی نتائج کے خلاف شعیب شاہین، علی بخاری و دیگر کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔

درخواست گزار پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار شعیب شاہین نے دلائل دیے کہ الیکشن کی رات 12 بجے تک میرے پاس 380 فارم 45 آئے تھے، میں آر او کے دفتر گیا تو میرے فارم طارق فضل چوہدری کے کھاتے میں ڈال رہے تھے اور ان کے میرے کھاتے میں، بمشکل ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچا اور کہا کہ اگر غلطی ہے تو اسے درست کر لیں، ریٹرننگ افسر نے دبے لفظوں میں مجھے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ نکال دینگے، فارم 45 پر ریٹرننگ افسر کے دستخط موجود ہیں، الیکشن نتائج کے بعد دو فارم 47 جاری کردئیے گئے تھے، عثمان اشرف حلقہ این اے 47 کے آر او تھے۔

پی ٹی آئی رہنما علی بخاری، شعیب شاہین، عامر مغل، علی خان اور شیر افضل مروت کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے میں چھ دفعات شامل ہیں۔

مقدمہ تھانہ کوہسار پولیس کی جانب سے درج کیا گیا جو کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنمائوں نے پریس کلب کے سامنے روڈ بلاک کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا جعلی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی ویڈیو سے متعلق کہنا تھا کہ انتخابات کے 10 روز بعد بھی دھاندلی کا نہایت منظم اور مربوط سلسلہ جاری ہے۔ صحافیوں کی بیان کردہ تفصیلات پر مشتمل ویڈیو واضح طور پر دھاندلی کا انکشاف کر رہی ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ حلقے جن میں نواز شریف اوران کے  خاندان کو شکست ہوئی ان حلقوں کے ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کیلئے غیر قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لاہور میں ن لیگ کے احسان نامی رہنما کے پرنٹنگ پریس میں ان حلقوں کے جعلی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے۔ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فارم 45 کے مطابق انتخابی نتائج فوری طور پر جاری کئے جائیں۔